جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر7
سکول میں ایک بار پھر ٹرپ کا شور اٹھا تھا ۔۔۔۔ لیکن دن اور جگہ کسی کو بھی معلوم نہ تھا ۔۔۔۔ میم سے پوچھا جاتا تو وہ بال ولید کے کورٹ میں پھینک دیتیں ۔۔۔۔ اور ولید سے اس طرح کی بات کرنے کی کسی میں ہمت نہ تھی ۔۔ "او کوئی ٹرپ کا پتا کرو کہ کب اور کہاں جا رہا ہے " مس عفت نے دہائی دی ۔۔۔۔ وہ گھومنے پھرنے کی بہت شوقین تھیں ۔۔۔۔ ہر وقت ہر جگہ جانے کے لئے تیار رہتی تھیں ۔۔ "کس سے پوچھیں۔۔۔۔ میم کو پتا نہیں اور بھڑوں کے چھتے کو ہم چھیڑتے نہیں " مس فوزیہ نے ولید حسن کو بھڑوں کا چھتا قرار دیتے ہوئے ہاتھ جھاڑے ۔ زجاجہ کو ان کی بات پر ہنسی آ گئی ۔۔۔۔۔ سارا سٹاف بہت ڈرتا تھا ولید سے ۔۔۔۔۔ ولید اپنے اور سٹاف کے درمیان ایک فاصلے کا قائل تھا ۔۔۔۔۔ لیکن اس ڈر کے باوجود ہر ٹیچر کو ولید کے ہوتے ہوئے تحفظ کا احساس رہتا ۔۔۔۔۔ اور جب کوئی ٹیچر ولید کے کردار کی پختگی کی تعریف کرتی تو زجاجہ کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ۔۔۔۔۔ آج سب نے ولید سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔ ماریہ اور زجاجہ پیش پیش تھیں ۔۔۔۔ سلطان سر سے ولید کی موجودگی کنفرم کر کے وہ اس کے آفس کے دروازے پہ موجود تھیں ۔۔۔۔۔ "پہلے مس آسیہ جائیں گی اندر " مس عفت نے مشورہ دیا ۔ "نہ جی کیوں ۔۔۔۔ میں کیوں جاؤں گی " مس آسیہ نے قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا "وہ کیا ہے نا مس ۔۔۔۔ آپ سینیئر ہیں نا ۔۔۔۔ سر آپ کو کچھ نہیں کہیں گے " ماریہ نے ان کے جانے کی وجہ بھی بتا دی ۔ اور یہ بات سچ بھی تھی ۔۔۔۔ ولید ان سے بہت نرمی سی پیش آتا تھا ۔۔۔اور ایک بڑی بہن کی طرح ان کی عزت کرتا تھا ۔۔۔۔ وہ پچھلے دس سال سے اس سکول میں پڑھا رہی تھیں ۔۔۔۔۔ ان کا ایک خاص مقام تھا ۔۔۔۔۔ وہ ایک طلاق یافتہ خاتون تھیں ۔۔۔۔۔ اور ایک بیٹے کے ساتھ بھائی کے گھر رہتی تھیں ۔۔۔۔۔ اپنی نوکری کر کے اپنا اور بیٹے کا پیٹ پالتی تھیں ۔۔۔۔۔ "چلو جی ۔۔۔۔ میں ہی چلی جاتی ہوں " انہوں نے حامی بھرتے ہوئے دروازے کی ناب گھمائی۔۔۔۔ "مے آئی کم ان سر " مس آسیہ نے اجازت مانگی ۔ "یس ۔۔۔۔ کم ان " حسب معمول ولید نے دیکھے بغیر جواب دیا۔ وہ کچھ ٹائپ کر رہا تھا اور سکرین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔ "میں نے کچھ بات کرنی ہے سر " مس آسیہ نے بات شروع کی ۔ ولید نے سکرین سے نظر ہٹائی۔۔۔۔ "اوہ مس آسیہ ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔ آئیں بیٹھیں پلیز ۔۔۔۔ سوری میں ذرا بزی تھا " ولید پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔ "آپ نے ایک بار ٹرپ کا کہا تھا ۔۔۔۔۔ تو اب سٹاف چاہ رہا ہے کہ آپ ڈیٹ کنفرم کر دیں اگر تو " انہوں نے بات ادھوری چھوڑی ۔ "ویل ۔۔۔آپ میرے لئے بڑی بہن کا درجہ رکھتی ہیں مس آسیہ ۔۔۔ اب بات کرنے آپ آئی ہیں تو جو حکم آپ کا ۔۔۔۔۔ویسے میں ابھی جانے کی پوزیشن میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔لیکن کرتے ہیں ڈیٹ کنفرم ۔۔۔۔ جگہ آپ لوگ decide کر لیں " ولید نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس عزت افزائی پر مس آسیہ کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔ " بہت شکریہ سر ۔۔۔ اللہ پاک خوش رکھے آپ کو " انہوں نے دل سے ولید حسن کو دعا دی ۔ اور آفس سے نکل آئیں ۔ باہر بیتابی سے مس آسیہ کے برآمد ہونے کا انتظار ہو رہا تھا ۔۔۔۔ جونہی دروازہ کھلا سب الرٹ ہو گئیں ۔۔۔۔ "کیا خبر ہے مس آسیہ " زجاجہ فورا آگے بڑھی ۔۔۔ "صبر لڑکی صبر ۔۔۔۔" انہوں نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا ۔ " آؤ بتاتی ہوں " "ہاں تو ولید سر نے فرمایا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ " انہوں نے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا " جگہ بتاؤ آپ لوگ ۔۔۔میں ڈیٹ کنفرم کرتا ہوں " "واہ ۔۔۔۔۔ چھا گئیں آپ میم ۔۔۔۔۔ چیتی لگی ہیں ۔۔۔۔ صدقے جاؤں " ماریہ نے تو باقاعدہ ان کا ماتھا چوم لیا ۔ اب سٹاف روم میں خالص خواتین والی گفتگو ہو رہی تھی ۔۔۔۔ کپڑے ۔۔۔جوتے ۔۔۔ بیگ decide ہو رہے تھے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " تو کہاں چلیں زجاجہ سکندر صاحبہ" ولید نے زجاجہ سے پوچھا ۔ " جہاں آپ کہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن جہاں بھی جائیں گے stay کریں گے پلیز " اس نے بچوں کی طرح منہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ ولید فون پر بھی اس کے چہرے کا زاویہ محسوس کر کے ہنس پڑا ۔۔۔ "ہمم ۔۔۔۔۔۔ باقی سٹاف کے لئے مشکل ہو جائے گا چندا " وہ اسے بعض اوقات بچوں کی طرح ہی ڈیل کرتا تھا ۔۔۔۔ "نہیں ہو گا نا ۔۔۔۔۔ اور 30 کے سٹاف میں سے 4 یا 5 لوگوں کے لئے ہی مشکل ہو گا نا ۔۔۔۔ پلیز مان جائیں نا " وہ اپنی بات پر قائم تھی ۔ "اوکے ۔۔۔۔۔ جیسے میری جھلی چاہے " ولید کو مانتے ہی بنی "پھر اسلام آباد چلیں ؟؟؟" "واؤ۔۔۔۔۔۔ بیوٹی فل لینڈ " وہ خوش ہو گئی تھی " تھینکس آ لاٹ ولی " "اٹس یور رائٹ زجاجہ " ولید اسے تصور میں خوش دیکھ کر ہی مطمئن ہو گیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "ماما ہمارے سکول کا ٹرپ جا رہا ہے اسلام آباد " وہ ماما کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی "ایک ہفتے کا stay ہے " "کوئی ضرورت نہیں جانے کی " ماما نے فیصلہ سنایا ۔ "کیا مطلب " وہ کرنٹ کھا کے اٹھی " کیوں نہیں ضرورت ۔۔۔۔سب جا رہے ہیں " " ایک ہفتہ وہاں رہ کر کیا کرو گے تم لوگ " ماما مطمئن نہیں ہو رہی تھیں ۔۔۔ "ماما پلیز جانے دیں نا " وہ منت پہ اتر آئ تھی ۔۔۔۔ اتنے میں سکندر صاحب بھی آ گئے ۔ "بابا آپ مجھے جانے دیں گے نا اسلام آباد " وہ چھلانگ لگا کر ان کے پاس پہنچ گئی ۔ " میرے سکول سے ٹرپ جا رہا ہے ۔۔۔۔ ون ویک stay ہے " "بیٹا کیا کرو گی جا کے ۔۔۔۔۔ حالات تمہارے سامنے ہیں " وہ فکر مند ہوئے ۔ "آپ خود تو کہتے ہیں سب اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔ اس کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہل سکتا تو پھر حالات کا کیا ڈر بابا " وہ دوسرے حربے پہ اتر آئ تھی ۔۔۔۔ آخر تھوڑی سی بحث کے بعد انہیں اجازت دیتے ہی بنی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بیا کو بتایا تو وہ بھی ساتھ چلنے کو تیار ہو گئی ۔۔۔۔ لیکن جانے سے ایک دن پہلے اس کی خالہ قصور سے آ گئیں تو اسے اپنا پروگرام کینسل کرنا پڑا ۔۔۔۔۔ مسز یزدانی نے بھی جانے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔ وہ اسلام آباد کی سردی سے گھبراتی تھیں ۔۔۔۔۔۔ "بہت مزہ آئے گا " وہ اور ماریہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھیں ۔۔۔۔ راستے میں دو تین جگہ رک کر چائے کے ساتھ انصاف کیا گیا ۔۔۔۔۔ جوں جوں اسلام آباد سے فاصلہ کم ہو رہا تھا ۔۔۔۔فضا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ لاہور سے اسلام آباد تک کا 4 گھنٹے کا سفر اس قافلے نے 6 گھنٹوں میں طے کیا ۔۔۔۔۔ جب وہ لوگ اسلام آباد پہنچے تو سورج اپنی رات کی منزل کی طرف رواں دواں تھا ۔۔۔۔۔۔ زجاجہ نے ڈوبتے سورج کے منظر کو اپنے موبائل میں محفوظ کیا اور ریسٹ ہاؤس کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔ وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ جب وہ سورج کو اپنے موبائل میں محفوظ کر رہی تھی ، کسی نے اس لمحے کو زجاجہ سمیت اپنے موبائل میں قید کر لیا تھا ۔۔۔۔۔ ریسٹ ہاؤس پہنچ کر سب نے چائے پی اور بیڈ کا رخ کیا ۔۔۔۔۔ اس کا دل بہت اداس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اٹھ کر باہر آ گئی ۔۔۔۔۔ باہر کافی ٹھنڈ تھی ۔۔۔۔۔ ہر چیز کو دھند کی چادر نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔۔۔۔۔ وہ شال کندهوں کے گرد لپیٹتی سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔ باہر سے آتے ولید کی نظر اس پر پڑی تو وہ قریب آ گیا ۔ " کیا ہوا زجاجہ ۔۔۔۔۔ ادھر کیوں بیٹھی ہو " زجاجہ نے سر اٹھا کر ولید کو دیکھا "کچھ نہیں ولی ۔۔۔۔۔ گھبراہٹ هو رہی تھی تو باہر آ گئی " وہ ایک ہاتھ سے بال پیچھے کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ ولید نے غور سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔ وہ بلیک کرتے کے ساتھ بلو جینز پہنے ۔۔۔۔ کندهوں کے گرد شال لپیٹے ۔۔۔۔ اس اداس شام کا حصہ لگ رہی تھی ۔۔۔۔ اس لمحے وہ ولید کو دل سی بہت قریب محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔ "ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں " زجاجہ نے اسے یوں محویت سے اپنی طرف دیکھتے پایا تو پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔ "دیکھ رہا ہوں تم اسلام آباد آ کے سردیوں جیسی لگ رہی هو " "سردیوں جیسی مطلب " وہ نہ سمجھتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ " مطلب کو چھوڑو ۔۔۔۔ یہ بتاؤ کافی پیو گی " وہ وہیں سیڑھیوں پر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔ " ضرور ۔۔۔۔ کافی تو کبھی بھی کہیں بھی " وہ کافی اور چاکلیٹ کی دیوانی تھی ۔۔۔۔ ولید "ابھی لایا " کہہ کر اندر چلا گیا ۔۔۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دو کافی کپ تھے ۔۔۔۔۔ "کوئی خاص وجہ اداسی کی ؟؟؟" ایک کپ زجاجہ کو پکڑاتے ہوئے اس نے اس کی اداسی کا سبب پوچھا ۔۔۔۔ "پتا نہیں ولی ۔۔۔۔۔ بس ایک دم دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو ۔۔۔۔۔اور پتا ہے ایسا اکثر ہوتا ہے میرے ساتھ " وہ بتاتے ہوئے پوری ولید کی طرف مڑ گئی ۔۔۔۔ "سب کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ یہ ہمارے unconscious میں سٹورڈ کوئی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔ وہ جب conscious میں آتی ہے تو ایسی سچویشن ہوتی ہے ۔۔۔۔کیونکہ conscious اسے recognize نہیں کر پا رہا ہوتا " ولید نے اسے اس کیفیت کی سائنسی وجہ بتائی ۔۔۔۔ زجاجہ : "ولی " ولید : "حاضر میم " زجاجہ : "ہر بات کے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے نا " ولید : "بلکل ہوتی ہے " زجاجہ : "ہمارے ملنے کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے " ولید : "مجھے یہ تو نہیں پتا زجی ۔۔۔۔۔ ہاں اتنا جانتا ہوں کوئی بہت بڑی وجہ ہے " زجاجہ : "آپ کو کیسے پتا " ولید : "میرا دل کہتا ہے" زجاجہ : "ہمم ۔۔۔۔۔۔ آپ کبھی مجھے چھوڑ تو نہیں دیں گے نا " ولید : "کوئی سانس لینا چھوڑ سکتا ہے کیا " ولید کے جواب پر زجاجہ نے بےیقینی سی ولید حسن کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔ اتنا کھلا اقرار تو وہ کبھی نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔ ولید کی خوبصورت بھوری آنکھوں میں بےپناہ محبت تھی ۔۔۔۔۔ زجاجہ نے نظریں ہاتھ میں پکڑے کپ کی طرف پھیر لیں ۔۔۔۔۔ چند لمحے خاموشی کی نذر ہو گئے ۔۔۔۔۔ گہری خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔ "میں چلتی ہوں " زجاجہ نے خاموشی کو توڑا ۔۔۔ "اوکے ۔۔۔۔۔ ریلیکس ہو جاؤ ۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے " وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولا ۔ زجاجہ نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا ۔۔۔۔۔۔ اور اندر کی طرف قدم بڑھا دیے ۔ "سنو " ولید کی آواز پر اس نے رک کر پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔ "اداس مت ہوا کرو ۔۔۔۔۔تم اداس ہوتی هو تو میری عمر گھٹنے لگتی ہے " ولید نے اس کو وارفتگی سی دیکھتے ہوئے کہا زجاجہ کو لگا آج روۓ زمین پر اس جتنا خوش قسمت کوئی نہیں هو گا ۔۔۔۔۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر اندر چلی گئی ۔۔۔۔ ولید نے مسکرا کے کافی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔ زجاجہ کو پتا ہی نہیں چلا کہ کب ولید نے اپنا اور اس کا کپ آپس میں بدل دیے ۔۔۔۔۔۔ "میری جھلی " اس نے زیر لب کہا اور کپ ہونٹوں سے لگا لیا ۔۔۔۔